A doctor who came close to the reality of corona virus has died in the United States

Advertisement

تفصیلات کے مطابق جہاں پوری دنیا میں کرونا وائرس کی جڑ تک پہنچنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کی جارہی ہیں وہیں امریکا میں کرونا وائرس سے متعلق اہم حقائق کے قریب پہنچنے والے ڈاکٹر کو ہلاک کردیا گیا۔ امریکی حکام کا ہلاک ڈاکٹر کے حوالے سے کہنا تھا کہ انہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا یا انہوں نے خودکشی کی اس پر تحقیقات جاری ہیں۔

پٹسبرگ سکول آف میڈیسن یونیورسٹی کے محقق بنگ لیو کی موت کے بعد طبی معائنہ کرنے والی ٹیم کے مطابق ڈاکٹر بنگ لیو کی لاش ہفتے کو پٹسبرگ کے شمال میں راس ٹاؤن شپ کے ایک گھر سے ملی۔ جبکہ ڈاکٹر بنگ لیو کی لاش والے گھر سے تھوڑا جا کر پولیس کو  ہاؤ گو نامی شخص کی لاش اس کی کار سے ملی۔
پولیس کا واقعہ کی تفتیش بارے خبر رساں ادارے کو بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ دونوں افراد کی لاشیں ملنے کے بعد یہ خیال کیا جارہا ہے کہ ہاؤ گو نامی شخص نے پہلے اپنے ساتھی ڈاکٹر بنگ لیو کو ہلاک کیا جس کے بعد اس نے خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی، تاہم اس واقعے کے بارے میں کچھ بھی حتمی کہنا قبل از وقت ہوگا، واقعے کی تفتیش تمام زاویوں سے جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی یونیورسٹی جس میں ڈاکٹر بنگ لیو ایک محقق کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے کاان کے حوالے سے کہنا تھا کہ وہ ایک بہت ہی قابل محقق تھے جن کی خدمات ہمیشہ ہیں نا قابل تعریف رہی ہیں۔یونیورسٹی کے ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر بنگ لیو کرونا وائرس کی وجہ سے بننے والے سیلولر میکنیزم کو سمجھنے کے قریب تر پہنچ چکے تھے لیکن ابھی ان کی جانب سے کوئی حتمی رپورٹ جاری نہیں کی گئی تھی۔
پٹسبرگ سکول آف میڈیسن یونیورسٹی کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ سائنس کے شعبے میں ڈاکٹر لیو کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی ریسرچ کو حتمی شکل دینے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

Source Link

Advertisement
Advertisement